بچوں کا قلندر شعور – مینیو
بچوں کا قلندر شعور جنوری ۲۰۲۳

ابا آدم، اماں حوا کے بچو

ایک سوچنے کی بات — نام، عمر اور پہچان کے بارے میں

السلام علیکم دوست، بہن بھائیو!

آپ سے عمر میں بڑا ہوں، لیکن عمر محض ایک گنتی ہے — ایسی گنتی جس کا حساب آدمی نے لکیروں سے رکھا ہے۔ لکیریں زیادہ ہوں تو گنتی بڑھتی ہے، لکیریں کم ہوں تو گنتی گھٹ جاتی ہے۔ اسی طرح جسم پر بھی لکیریں پڑتی ہیں۔ جب لکیریں کم اور ہلکی ہوں تو آدمی بچہ کہلاتا ہے، اور جب لکیریں گہری ہو جائیں تو وہ خود کو بوڑھا سمجھنے لگتا ہے — جبکہ حقیقت میں وہ نہ پورا بوڑھا ہے، نہ پورا بچہ۔

آپ کہیں گے یہ کیسی باتیں ہوئیں؟ جی ہاں، آدمی نہ ہمیشہ بوڑھا رہتا ہے، نہ ہمیشہ جوان — بس بدلتا رہتا ہے۔

ایک بچہ اس دنیا میں پیدا ہوا۔ دادی نے اس کا نام “زید” رکھا۔ من موہنی صورت والا زید سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پھر ایک سال بعد دیکھا تو وہ کافی بدل چکا تھا۔ پندرہ سال بعد آیا تو پہچاننا مشکل ہو گیا — چہرہ، قد کاٹھ اور آواز، سب بدل گئے، لیکن ایک چیز نہیں بدلی: اس کا نام۔

جوانی کے بعد بڑھاپے نے قدم رکھا تو کالے بال چاندی جیسے سفید ہو گئے، منہ پچک گیا، چہرے پر جھریاں نمودار ہوئیں، بڑی بڑی آنکھیں چھوٹی نظر آنے لگیں، کمر جھک گئی، اور گھٹنوں میں وہ جان نہ رہی جو جوانی میں تھی۔ غرض سب کچھ بدل گیا — مگر نام نہیں بدلا۔

پہلا دن

ننھا زید

بچپن

کھیلتا کودتا زید

جوانی

بڑا ہوکر زید

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ گھر کے بڑے اس کا نام رکھتے ہیں، اور پھر سارے اسی نام سے اسے پکارنے لگتے ہیں۔

کیا آپ کو اپنا پرانا نام یاد ہے؟

نام، پہچان اور تبدیلی پر ایک اور سوچ

بچے کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ اماں ابا، نانا نانی، دادا دادی سے پوچھیے کہ جب آپ دنیا میں آئے تھے، اس وقت کیا آپ کا کوئی نام تھا؟

بہن بھائیو، دوستو! ہم سب کسی نہ کسی رکھے ہوئے نام کو اپنا کر فخر سے بتاتے ہیں کہ “میرا نام یہ ہے۔” مگر کیا ہم خود کو پہچان سکتے ہیں کہ نام رکھنے سے پہلے ہم کون تھے؟

🌱 وہ چیز جو خود کبھی نہیں بدلتی، وہ کیا ہے؟
🌤️ چہرہ، قد اور آواز بدل جاتے ہیں — تو ہماری اصل پہچان کیا ہے؟
🌼 ایک فٹ کا بچہ چھ فٹ کا جوان بن جاتا ہے — پھر بھی وہ “وہی” کیوں کہلاتا ہے؟
✨ نام رکھے جانے سے پہلے، ہم کون تھے؟

پیارے بہن بھائیو! دنیا میں لوگ اپنا نام، اپنا کام اور اپنی پہچان بنانے میں لگے رہتے ہیں، مگر یہ سوچنے کی بات ہے کہ نام رکھے جانے سے پہلے، جب ہمارا کوئی نام نہیں تھا، تب ہم کون تھے؟

⭐ گورکھ دھندا: وہ کاروبار جس میں صرف دھوکا اور خسارہ ہو۔

اللہ حافظ

آپ کا دوست

بچوں کا قلندر شعور — جنوری ۲۰۲۳ ۴۵